پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوج کی مختلف کارروائیوں میں چوبیس مزید شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ فوج کے مطابق اتوار کو اورکزئی ایجنسی میں طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری میں کم از کم سات عسکریت پسند مارے گئے۔ فوج کے مطابق جیٹ طیاروں نے بالائی اورکزئی میں طالبان کے صدر دفاتر کا محاصرہ کیا جبکہ چھ کیمپ تباہ کر دئے گئے۔زیریں اورکزئی کے علاقوں ڈابوری اور ماموزئی میں بھی شدید بمباری کی گئی۔ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے دوران مزید سترہ انتہاپسندوں ہلاک ہو گئے ہیں ۔ اِس قبائلی پٹی میں گزشتہ چار ہفتوں سے مقامی انتہاپسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہے۔ اب تک ہلاک کئے جانے والے طالبان عسکریت پسندوں کی تعداد پانچ سو بیالیس ہو گئی ہے۔ آزاد ذرائع سے حکومتی اعداد و شمار کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ شورش زدہ قبائلی علاقے میں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔اب تک اِس آپریشن میں تریسٹھ فوجی بھی مارے جا چکے ہیں ۔دوسری جانب پشاور کے نواحی علاقے بڈابیر کے ناظم محمد فہیم کے گھر پر برقع پوش طالبان حملہ آوروں نے اندر گھسنے کی کوشش کی تو ناظم کے حفاظتی گارڈ کی فائرنگ سے تین حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا۔ محمد فہیم کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق خیبر ایجنسی میں سرگرم منگل باغ نامی طالبان لیڈر کے گروپ لشکر اسلام سے تھا۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 172290
پشاور کے نواحی علاقے بڈابیر کے ناظم محمد فہیم کے حفاظتی گارڈ کی فائرنگ سے ان کے گھر پر تین برقع پوش طالبان حملہ آورو ہلاک ہوگئے۔ حملہ آوروں کا تعلق خیبر ایجنسی میں سرگرم منگل باغ نامی طالبان لیڈر کے گروپ لشکر اسلام سے تھا۔